بل گیٹس نے انتہائی غربت سے نمٹنے کے لیے اہداف اور پیمانوں کی قوت کی کلیدی حیثیت پر زور دیا

پانچواں سالانہ خط امریکہ میں تعلیم سے لے کر ایتھوپیا میں قبل از پیدائش صحت کے فروغ میں کامیابیوں کو نمایاں کرتا اور اگلے 15 سالوں میں غریبوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے وژن کا نقشہ کھینچتا ہے

سیاٹل، 31 جنوری 2013ء/پی آرنیوزوائر–

اپنے پانچویں سالانہ خط میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک-چیئر بل گیٹس نے نشاندہی کی ہے کہ کس طرح واضح اہداف اور درست پیمانے دنیا بھر میں غریبوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کلید ہیں۔
اس اعلامیہ سے منسلک ملٹی میڈیا اثاثے دیکھنے کے لیے کلک کیجیے: http://www.multivu.com/mnr/49396-bill-melinda-gates-foundation-fifth-annual-letter

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130130/MM50698)
گیٹس نے لکھا “مجھے معلوم ہے کہ یہ اتنا متاثر کن نہیں ہے لیکن اس کے اثرات ناقابلِ تردید ہیں۔ غریب ترین افراد کی زندگیوں میں جس تیزی سے بہتری گزشتہ 15 سالوں میں آئی ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں آئی۔”

خط امریکہ میں اسکولوں سے لے کر ایتھوپیا میں صحت عامہ کے شعبے میں ہونے والی غیر معمولی پیشرفت کو بیان کرتا ہے اور قائل کرتا ہے کہ ان کوششوں میں مستقل سرمایہ کاری دنیا بھر کے لاکھوں غریب ترین افراد کے لیے قابل اندازہ فرق پیدا کر چکی ہے۔ ایک بنیادی سبب دنیا کی واضح اہداف مقرر کرنے اور ان اہداف کے حصول کی جانب پیشرفت کے لیے درست پیمانے شناخت کرنے سے وابستگی تھی۔

یہ خصوصاً غیر ملکی امداد کی صورت میں سچ ہے۔ گیٹس خط میں کہتے ہیں کہ “تاریخی طور پر، امداد پر زیادہ تر سرمایہ کاری کیے گئے پیسے کی کل مقدار کی صورت میں غور کیا گیا۔ اب ہم من و عن بچوں میں شرح اموات جیسے اشاریے جانچ رہے ہیں، اس لیے لوگ سخت حالات میں پراثر امداد کو دیکھنے کے قابل ہیں –یہ لوگوں کو ایڈز کا علاج فراہم کرنے یا انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دینے میں فرق جیسا ہے۔”

انہوں نے دنیا بھر میں سخت بجٹ کی مثال دیتے ہوئے اس کی اہمیت پر زور دیا۔ “واضح اہداف اور پیمانوں کا تعین صرف حکومتوں کو اپنی امدادی رقوم کو زیادہ موثر انداز میں استعمال ہی نہیں کرنے دیتا، بلکہ یہ امدادی پروگراموں کو جاری رکھنے میں سیاسی خواہش کو بھی بناتا ہے یہ ثابت کر کے کہ یہ کس قدر کامیاب ہیں۔ یہ صرف ایک حکومت کی جانب سے دوسری حکومت کو اپنے ٹیکس دینے والوں کا پیسہ دینے کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک کمیونٹی کی دوسری کمیونٹی کو غربت کے چنگل سے نکالنے کا معاملہ ہے۔”

گیٹس مثال کی حیثيت سے اقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف (MDGs) کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کہ کس طرح اس عمل کو جانچنے کے لیے جب ہم واضح اہداف کے تعین اور پیمانے متعین کرنے پر آ پہنچتے ہیں تو بڑی چیزوں کے حصول کی دنیا کس قدر صلاحیت رکھتی ہے۔ ایم ڈی جیز آٹھ مخصوص اہداف کا مجموعہ ہے جو 2015ء تک دنیا بھر کے غریب ترین افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کی غیر معمولی عالمی کوشش ہے۔ گیٹس نے کہا کہ “گو کہ ہم تمام اہداف تک نہیں پہنچ پائیں گے لیکن اس سمت میں جو پیشرفت ہوئی ہے وہ حیران کن ہے۔ انتہائی غربت کو نصف تک کم کرنے کا ایم ڈی جی ہدف ڈیڈلائن سے قبل حاصل کر لیا گیا، اور اسی طرح پینے کے صاف پانی تک رسائی نہ رکھنے والے افراد کے تناسب کو نصف کرنے کا ہدف بھی۔”

اب جبکہ دنیا کی نظریں آگے کی طرف ہیں، گیٹس نے 2030ء کے لیے امیدیں پیدا کرنے کے لیے اگلی نسل کی خاطر دنیا کو بہتر بنانے کے لیے اپنے خیالات پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ انہوں نے موثر ترقی کے بارے میں عالمی تحفظ پر تحریک پیدا کرنے اور دنیا کے غریب ترین افراد کے لیے مزید ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے لیے دنیا کس طرح بہترین انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے، پر اپنی امید ظاہر کی۔

خط 2013ء میں فاؤنڈیشن کی دیگر کلیدی ترجیحات کا بھی احاطہ کرتا ہے، جن میں پولیو کے خاتمے، بچوں کی اموات کی تعدادکو کم کرنے، مانع حمل ادویات تک رسائی میں اضافے اور امریکہ میں تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد شامل ہیں۔ گیٹس نے دوسرے گیٹس ویکسین انوویشن ایوارڈ فاتح کا بھی اعلان کیا، اور ولیج ریچ کی فیلڈ آفیسر مارگریڈا ماٹسنے کے نئے انداز کے کام کو سراہا، جو بچوں کو محفوظ بنانے سے روکنے والی رکاوٹوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ویکسین لاجسٹک سسٹم پر نظرثانی میں معاون رہیں۔

مکمل خط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے: www.gatesfoundation.org/annualletter
ہائی ریزولیوشن تصاویر اور معیاری وڈیو فوٹیج کے لیے ملاحظہ کیجیے:
www.thenewsmarket.com/gatesfoundation

رابطہ:
ای میل: media@gatesfoundation.org
فون: +1-206-709-3400