ٹائیفائیڈ بخار پر قابو اور اس سے تحفظ پر ہونے والی پیشرفت پر بین الاقوامی کانفرنس

– ٹائیفائیڈ بخار اور دیگر سالمونیلا امراض پر آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس کے لیے ماہرین ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں جمع

ڈھاکہ، بنگلہ دیش، 28 فروری 2013ء/پی آرنیوزوائر –

ٹائیفائیڈ بخار، میعادی بخار (ٹائیفائیڈ یا پیراٹائیفائیڈ سے ہونے والا مرض)، اور حملہ آور غیر-ٹائیفائیڈل سالمونیلا پر قابو اور تحفظ پر ہونے والی پیشرفت پر نظرثانی کے لیے یکم سے 2 مارچ 2013ء کو ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں صحت کے بین الاقوامی اور علاقائی ماہرین جمع ہو رہے ہیں، جس میں اگلی نسل کی ویکسین کی تیاری/اجازت نامے کی خبریں شامل ہیں۔ٹائیفائیڈ بخار اور دیگر سالمونیلا امراض پر آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس   کا اہتمام ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد (CaT) سیکرٹریٹ نے اپنے شراکت داروں icddr,b، بنگلہ دیش پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (بی پی اے) اور انٹرنیشنل ویکسین انسٹیٹیوٹ (IVI) کے تعاون سے کیا ہے۔

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ میں سی اے ٹی سیکریٹیریٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرسٹوفر نیلسن نے کہا کہ “یہ اجلاس دنیا اور ایشیا بھر سے طبی ماہرین، تحقیق کاروں اور حکومتی رہنماؤں کو اہم گفتگو کی سہولت دے گا۔ خطے میں ٹائیفائیڈ کی انتہائی مخصوص شرح اور ٹائیفائیڈ ویکسینز کس طرح اس مرض پر قابو پانے اور اس سے بچا رہی ہیں، کے بارے میں گفتگو کے لیے بہت اہم اجلاس ہے۔”

ٹائیفائیڈ بخار اور میعادی بخار ان برادریوں میں بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے جو محفوظ پانی تک رسائی اور بنیادی نکاسی آب نہیں رکھتیں اور آلودہ پانی اور غذا کے ساتھ رہتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ٹائیفائیڈ سالانہ اندازاً 21 ملین افراد پر اثر ڈالتا ہے اور 2 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، جن میں زیادہ تعداد قبل از اسکول اور اسکول کی عمر کے بچوں کی ہوتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او رپورٹ دیتا ہے کہ ٹائیفائیڈ سے ہونے والی 90 فیصد اموات ایشیا میں ہوتی ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی، کراچی، پاکستان میں عورتوں اور بچوں کی صحت کے شعبے کے بانی چیئر ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ نے کہا کہ “جنوبی اور جنوبی مشرقی ایشیا بھر میں طبی ماہرین صحت پر پڑنے والے ٹائیفائیڈ کے اثرات کو تسلیم کرتے ہیں، خصوصاً ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ٹائیفائیڈ کے بڑھتے ہوئے اور پھیلتے ہوئے خطرے کو تسلیم کرتے ہیں۔ شدید نوعیت اور اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے علاوہ ٹائیفائیڈ انفیکشن اسکول حاضریوں اور کامیابیوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی کام میں شرکت کو بھی محدود کرتا ہے۔”

متعدد ممالک، جیسا کہ چین، ویت نام، تھائی لینڈ، سری لنکا اور نیپال مرض پر موثر انداز میں قابو پانے اور اس سے تحفظ کے لیے موجودہ ٹائیفائیڈ ویکسین استعمال کر چکےہیں۔

ڈائریکٹر، شعبہ ہیلتھ سروسز، وزارت صحت و آبادی، نیپال ڈاکٹر شیام راج اپریتی نے کہاکہ “نیپال نے ظاہر کیا کہ ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن پروگرام وزارت تعلیم اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے قریبی تعاون کے ذریعے کامیابی سے شروع کیا جا سکتاہے۔”

خطے میں کامیاب ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن پروگراموں کی مثالوں اور “فوری” نفاذ کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسین کو ترجیح دینے کی ڈبلیو ایچ او کی سفارش کے باوجود، کئی ممالک کی جانب سے ٹائیفائیڈ ویکسینز کو تجویز یا متعارف کروانا ابھی باقی ہے۔

نئی دہلی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے جنوب مشرقی ایشیا علاقائی دفتر (SEARO) کے لیے تکنیکی مشاورتی گروپ برائے مامونیت کی چیئرپرسن اور سری لنکا میڈیکل کونسل کی سابق صدر پروفیسر للیتا مینڈس نے کہا کہ “طب اطفال اور خطے کی دیگر انجمنیں ٹائیفائیڈ کے سنجیدہ اثرات کو تسلیم کرتی ہیں، خصوصاً ادویات کے حوالے سے مزاحمت رکھنے والے ٹائیفائیڈ کے بڑھتے اور پھیلتے ہوئے خطرے کو۔ ملک میں معالجین اطفال کی سب سے بڑی انجمن انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس قومی مامونیتی پروگرام میں ٹائیفائیڈ ویکسین کی فوری شمولیت کی سفارش کر چکی ہے۔ قومی اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو ملک کے لیے مخصوص شواہد پر لازماً نظرثانی کرنی چاہیے اور ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کے لیے ممکن اور مناسب حکمت عملی پر مکالمے کو آگے بڑھانا چاہیے۔”

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور ویلکم ٹرسٹ سینگر انسٹیٹیوٹ جیسے بین الاقوامی اداروں کی قیادت اور مدد کے ساتھ ہونے والی ٹائیفائیڈ بخار اور دیگر سالمونیلا امراض پر آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس ٹائیفائیڈ بخار، میعادی بخار اور حملہ آور غیر ٹائیفائیڈل سالمونیلا سے ہونے والی بیماری پر قابو اور ان سے تحفظ کے حل تلاش کرنے کے لیے وسیع بین الاقوامی کوشش کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں اگلی نسل کی ویکسینز کی تیاری اور بہتر تشخیص کی کوششیں شامل ہیں۔ مالی سپورٹ آئی وی آئی اور سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ میں سی اے ٹی سیکریٹیریٹ کی جانب فراہم کی گئی تھی۔

ٹائیفائیڈ بخار اور دیگر سالمونیلا امراض پر آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کانفرنس ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے www.typhoidconference.org۔

ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد (CaT) کے بارے میں

ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد (CaT) سائنسدانوں اور مامونیاتی ماہرین کا ایک عالمی فورم ہے جو زیادہ بوجھ تلے دبی برادریوں میں ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کو بہتر بنانے کے ذریعے زندگیاں بچانے اور نقصان کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے  ، یہ دیگر معروف اتحادوں میں سے ایک ہے۔ عالمی صحت کے ایجنڈے پر ٹائیفائیڈ کو ترجیح دے کر اور اس مرض سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دے کر ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد ان زندگی بچانے والی ویکسینز تک رسائی میں اضافے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سی اے ٹی کے بارے میں مزید جانیے: http://www.coalitionagainsttyphoid.org/۔

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کے بارے میں

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ سائنسدانوں، تحقیق کاروں اور وکیلوں کی ایک غیر منافع بخش 501 (سی) (3) انجمن ہے جو ویکسین کے ذریعے قابل علاج اور منطقہ حارہ کی غفلت برتی گئی بیماریوں سے انسانوں کو ہونے والی پریشانیوں کو کم کرنے سے وابستہ ہے۔ سابن حکومتوں، معروف سرکاری و نجی انجمنوں، اور تعلیمی اداروں کے ساتھ کام کرتا ہے تاکہ وہ دنیا کو درپیش صحت کے سب سے زیادہ اثر پذیر چیلنجز کے لیے حل فراہم کریں۔ 1993ء میں پولیو کی اورل ویکسین تیار کرنے والے ڈاکٹر البرٹ بی سابن کے اعزاز میں اپنے قیام کے بعد سے انسٹیٹیوٹ نئی ویکسینز تیار کرکے، موجودہ ویکسینز کے استعمال کی حمایت کر کے اور سستے طبی علاج تک رسائی میں اضافہ کر کے ان امراض پر قابو پانے، علاج اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے صف اول میں ہے۔ مزید معلومات کے لیے: www.sabin.org۔