ہر بچے تک ویکسین پہنچانے کی جانب نمایاں پیشرفت کو واضح کرتا پہلا عالمی ویکسین اجلاس

– عالمی رہنما تمام بچوں کو زندگی کا صحت مندانہ آغاز فراہم کرنے کے لیے متحد

ابوظہبی، متحدہ عرب امارات، 23 اپریل 2013ء/پی آرنیوزوائر–

300 سے زائد عالمی رہنما، صحت اور ترقی کے ماہرین، ویکسین دینے والے، معروف شخصیات، انسان دوست اور کاروباری رہنما کل پہلے عالمی ویکسین اجلاس کے لیے ابوظہبی میں اکٹھے ہوں گے تاکہ بچوں کی صحت مندانہ زندگی کے آغاز ویکسین اور امیونائزیشن کے اہم کردار کی توثیق کی جا سکے۔ غیر معمولی پیشرفت کے باوجود ہر 20 سیکنڈ میں ایک بچہ نمونیا، روٹاوائرس، خسرہ اور گردن توڑ بخار جیسے ان امراض کے ہاتھوں دم توڑ دیتا ہے، جو قابل علاج ہیں اور جن سے تحفظ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اس اعلامیہ سے منسلک ملٹی میڈیااثاثے دیکھنے کے لیے کلک کیجیے: http://www.multivu.com/mnr/61396-bill-and-melinda-gates-foundation-first-global-vaccine-summit

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130423/MM98420)

Global Leaders Unite to Give All Children a Healthy Start to Life

ویکسین کی طاقت پر مرکوز توجہ کے ساتھ یہ اجلاس امیونائزیشن کے عالمی ہفتے (24 سے 30 اپریل) کے دوران منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ تمام ضرورت مند افراد تک ویکسین کے ساتھ پہنچنے کے وژن اور عہد ڈیکیڈ آف ویکسینز کی تحریک کوجاری رکھا جا سکے۔  اس وژن کا اہم سنگ میل پولیو کا خاتمہ ہے۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک-چیئر بل گیٹس پیشرفت کا جشن مناتے ہوئے کامیابی کو ممکن بنانے والی انفرادی شخصیات، برادریوں، شراکت داروں اور اقوام کے اعزاز میں کلیدی خطاب کریں گے۔ تقریر www.globalvaccinesummit.org پر براہ راست ویب کاسٹ کی جائے گی۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس کے شریک-چیئر بل گیٹس نے کہا کہ “ویکسینز کا کام زندگیاں بچانا اور بچوں کو تاعمر تحفظ دینا ہے۔ زیادہ مضبوط امیونائزیشن سسٹمز میں سرمایہ کاری کر کے ہم پولیو کے خلاف اپنی کامیابیوں کو تحفظ دے سکتے ہیں اور صحت کی دیگر خدمات کے ساتھ ماؤں اور بچوں تک پہنچ سکتے ہیں۔”

گلوبل ویکسین ایکشن پلان کے گرد دنیا اکٹھی ہو رہی ہے، جس کی گزشتہ مئی میں تقریباً 200 ممالک نے توثیق کی تاکہ وہ بہتر اور زیادہ سستی ویکسین بنا سکیں اور مضبوط امیونائزیشن سسٹمز کے ذریعے فراہم کر سکیں۔ اگر ہم کامیاب ہوئے تو ہم 2020ء تک 20 ملین زندگیاں بچا سکتے ہیں اور تقریباً ایک ارب افراد کو بیماریوں سے محفوظ کر سکتے ہیں۔ یہ علاج پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 12 ارب ڈالرز بچائے گی اور اقتصادی ترقی میں 800 ارب ڈالرز سے بھی زیادہ حاصل کرے گی کیونکہ ویکسین لینے والے بچے زیادہ طویل، صحت مند اور بھرپور زندگی گزارتے ہیں۔

عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے کہا کہ “عالمی ویکسین اجلاس عالمی رہنماؤں اور جدت طرازوں کے لیے ایک تاریخی اجتماع ہے جن کے تعاون سے ہم نے ایک صحت مند عالمی معاشرے کو یقینی بنانے کے لیے اہم و مثبت پیشرفت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ خلیفہ بن زید النہیان کی رہنمائی میں ہم بدستور دنیا بھر کے بچوں کو زندگیاں بچانے والی ویکسین کی فراہمی سے وابستہ ہیں۔”

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ “امیونائزیشن بیماریوں سے تحفظ اور بچوں کی زندگی کو بچانے کے لیے سستے و موثرترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ پولیو کے خلاف جدوجہد میں عالمی سطح پر کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ ہم کتنا آگے تک جا سکتے ہیں۔ ہماری زبردست پیشرفت شراکت داروں کے عالمی اداروں کی مرہون منت ہے۔ آج ہمارے پاس پولیو کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے کا موقع ہے۔”

عالمی ویکسین اجلاس عزت مآب شیخ محمد بن زید بن سلطان الہیان، ولی عہد ابوظہبی اور ڈپٹی سپریم کمانڈر مسلح افواج متحدہ عرب امارات، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور بل اینڈ میلنڈ گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک-چیئر بل گیٹس کی شراکت داری سے منعقد ہو رہی ہے۔

اجلاس کے شرکاء، بشمول وزرائے صحت، صحت عامہ کے صف اول کے کارکن، بین الاقوامی غیر سرکاری انجمن اور عطیہ کنندگان، گفتگو کریں گے کہ عالمی برادری کس طرح بچوں کی ویکسین تک رسائی کو بہتر بنائے، پولیو کے خاتمے کا نقشہ راہ کیسے کام کرتا ہے، اور نئی ویکسین کے مواقع اور ان کی فراہمی کےلیے جدت طرازیاں کیسے کی جائیں۔ اجلاس کا مکمل ایجنڈا یہاں موجود ہے۔

عالمی ویکسین اجلاس کے شراکت دار منتظمین ہیں: یونی سیف، عالمی ادارۂ صحت، گلوبل پولیو اریڈی کیشن انیشی ایٹو، گیوی الائنس، اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ متحدہ عرب امارات کا کام:

جنوری 2011ء میں عزت مآب جنرل شیخ محمد بن زید النہیان، ولی عہد ابوظہیب اور ڈپٹی سپریم کمانڈر مسلح افواج متحدہ عرب امارات، اور بل گیٹس، شریک-چیئر بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے افغانی اور پاکستانی بچوں کو زندگی بھر کے لیے مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ویکسینز کی خریداری اور فراہمی کے لیے 100 ملین ڈالرز – 50 ملین ڈالرز ہر ایک کی طرف سے- دینے کا وعدہ کیا۔ اس شراکت داری کا نتیجہ افغانستان میں تقریباً پانچ ملین بچوں کو چھ مہلک امراض کے خلاف امیونائزیشن دینے کی صورت میں نکلا، اور یہ عالمی ادارۂ صحت یونی سیف کو کارکنوں کو پولیو ویکسین کے ساتھ افغانستان اور پاکستان کے 35 ملین بچوں تک پہنچنے میں مدد دے گی۔

اقوام متحدہ اور ویکسینز کے بارے میں

امیونائزیشن دنیا بھر کے 80 فیصد بچوں تک پہنچتی ہے، اور ہر سال ڈھائی ملین زندگیاں بچاتی ہے۔ اس کامیابی کے باوجود ہر سال 23 ملین بچے ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر غریب ترین اور بیماریوں کی زد پر موجود برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان افراد تک رسائی کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ویکسین کے حصول اور تقسیم کے طریقوں کو سہارا دیتے ہیں، صحت کے مقامی نظام کو مضبوط کرتے ہیں، امیونائزیشن کے لیے ایسی فنڈنگ کے ذریعے مدد کرتے ہیں جو جاری رہ سکے، اور ضروری ویکسین اور زندگی بچانے والی تک رسائی میں موجود ناہمواریوں کو کم کرنے کے حق میں بات کرتے ہیں۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

ہر  زندگی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس یقین کے ذریعے اپنی راہیں متعین کرنے والی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا بھر کے افراد کو صحت مند و بھرپور زندگی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، اس کی نگاہیں لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کو بھوک اور انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینے کا موقع فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ریاستہائے متحدہ  امریکا میں، اس کی خواہش اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد – بالخصوص وہ جن کے پاس وسائل کم ہیں – کو اسکول اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ سیاٹل، واشنگٹن میں واقع فاؤنڈیشن کی قیادت سی ای او جیف ریکس اور شریک چیئر ولیم ایچ گیٹس سینئر کر رہے ہیں، اور بل اور میلنڈا گیٹس اور ویرن بوفیٹ کی زیر نگرانی کام کر رہے ہیں۔