113 واں کینٹن میلہ: “صارف دوست اور منافع بخش، چین کا معروف تجارتی ایونٹ عالمی کاروباری شخصیات کی توجہ مبذول کراتے ہوئے”

گوانگ چو، چین، 19 مارچ 2013ء/پی آرنیوزوائر/

چین کا سب سے نمایاں تجارتی اجلاس کینٹن میلہ آج چین کی نفع بخش مارکیٹ تک دنیا بھر کے کاروباری افراد کی رسائی میں مدد دیتا ہے۔ تقریب ترقی پذیر ممالک کی کاروباری شخصیات میں تیزی سے مشہور ہوتی جا رہی ہے، اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد اب 113 ویں میلے میں شرکت کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو 15 اپریل سے شروع ہوگی۔

اپنی پیشہ ورانہ اور صارف دوست ہیئت کے باعث کینٹن میلہ شرکاء کی جانب سے مستقل مثبت تبصرے حاصل کرتا ہے۔ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے کاروباری افراد نے خصوصاً پیش کردہ مواقع کو سراہا، جس کے ذریعے وہ اپنے بلند نظر کاروباری اہداف کے حصول کے لیے تقریب کے اعلیٰ معیار اور موزوں قیمت کی مصنوعات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

برازیل کے ریکارڈ فیلاوینا چمڑے کے کھلونے اور آرائش کے لیے پروسس شدہ چمڑے میں مہارت رکھنے والے چمڑے کی مصنوعات بنانے والے ادارے انٹرکونڈرز کے مالک ہیں۔ “گزشتہ سال پہلی بار کینٹن میلے میں شرکت کے بعد فیلاوینا نے کہا کہ “اس ایونٹ نے مجھے بہت متاثر کیا۔ چین بہت متاثر کن مارکیٹ ہے اور اب میں چمڑے کے کھلونے تیار کرنے کے لیے ایک کارخانہ بنانے کی خاطر چائنا-برازیل انوسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اینڈ ٹریڈ سینٹر کے ساتھ تعاون کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔”

80 سے زائد بولیویائی خریداروں کے ساتھ حال ہی میں کینٹن میلے میں شرکت کے بعد بولیویا کے موٹر بائیک پارٹ ریٹیلر بیکار ریپوستوس کے کمرشل مینیجر رونالڈ مونتاریو نے کہا کہ “ہم یورپ سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے، البتہ اب ہم نے کم قیمت پر دستیاب معیاری چینی مصنوعات دریافت کر لی ہیں۔ میلے نے ہمارے لیے نئے کاروباری مواقع کی راہ کھولی ہے۔”

بھارتی کاروباری شخصیت پراکاف نینیا 2000ء سے اب تک سات مرتبہ کینٹن میلے میں آ چکے ہیں۔ نینیا نے کہا کہ “سب سے اہم چیز یہ ہے کہ میں جب بھی میلے میں شرکت کرتا ہوں تو چین کے موجودہ کاروباری ماحول کے بارے میں گہری نظر حاصل کرتا ہوں۔ ایونٹ دیگر میلوں کے مقابلے میں مصنوعات کی پسند کے زیادہ وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ میں اپنے قابل قدر کاروباری رفیقوں کے ساتھ اپنے کاروباری اہداف کو سمجھنے کے لیے یہاں بلاشبہ آتا رہوں گا۔ “

افریقہ کی کاروباری شخصیات کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی کینٹن میلے میں شریک ہو رہی ہے۔ موزمبیق سے تعلق رکھنے والے کاروباری فرد جوز نے گزشتہ سال 112 ویں میلے میں پہلی بار شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ “فی اوقت موزمبیق کی معیشت بہتر نہیں ہے، بلکہ عالمی معیشت ہی بہتری کی راہ پر نہیں۔ لیکن چین ترقی کی سمت گامزن ہے۔ میں اپنے ملک کی معیشت کی بحالی کے لیے یہاں سے چینی مصنوعات لے جانے کے لیے آیا تھا۔”

منتظمین کی نظریں 113 ویں میلے کے لیے دنیا بھر کے شرکاء کا خیرمقدم کرنے پر مرکوز ہیں۔ آئیے چین کے معروف تجارتی میلے کو اپنا کاروبار بڑھانے میں مدد دینے کا موقع دیں۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

ذریعہ: کینٹن میلہ