لافر کی تمباکو پر محصولات کے لیے بین الاقوامی دستی کتاب حکومتوں کو بذریعہ محصولات آمدنی بہتر بنانے کے لیے نقشہ راہ پیش کرتی ہے

July 18, 2014 Off By Web Desk

– ‘ایک سائز سب کو پورا نہیں آتا’ کے اعلان کے ساتھ معروف ماہر اقتصادیات بیان کرتے ہیں کہ ممالک کو ایکسائز نرخوں کو مرتب کرتے ہوئے مالی سالمیت کو کیوں برقرار رکھنا چاہیے

لندن، 17جولائی 2014ء/پی آرنیوزوائر — دنیا بھر میں ایکسائز ٹیکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر آرتھر لافر نے آج اپنی بین الاقوامی تمباکو محصول دستی کتاب جاری کردی، جس میں انتباہ کیا گیا ہے کہ تمباکو محصول پالیسی میں “ایک سائز سب کو پورا نہیں آتا”، اور حکومتوں کو  عملی مثالیں اور کیس اسٹڈیز پیش کررہے ہیں تاکہ وہ تمباکو ایکسائز ٹیکس آمدنی کو بہتر بنانے پر غور کرے۔

لافر نے آج اپنی ہینڈبک آف ٹوبیکو ٹیکسیشن – تھیوری اینڈ پریکٹس کے اجراء کے موقع پر کہا کہ “تمباکو محصولات دنیا بھر کے بیشتر ممالک کے لیے ٹیکس آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔ حکومتیں مالیاتی اور صحت عامہ کے اہداف حاصل کرنے کے لیے تمباکو پر ایکسائز محصولات وصول کرتی ہیں۔ کیونکہ تمباکو نوشی کی شرح کو کم کرنے کے ہدف کو نہیں سمجھا جا سکتا، اس لیے یہ دستی کتاب ہر اس فرد کے لیے دلچسپ ہے جو تمباکو ٹیکس پالیسی لگانے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ اس کی توجہ تمباکو کی کھپت کے مسئلے کے حل کے لیے محصول کو استعمال کرنے  پر ہے۔”

لافر نے پایا کہ محصولاتی ڈھانچے کے انوکھے پہلو اور اقتصادی ماحول نے محصولاتی سطح یا محصولاتی نظاموں کے لیے یکساں طریقے کو نامناسب بنا دیا ہے۔ اس کے بجائے حکومتوں کو تمباکو پر محصول لگانے کے طریقے کو تبدیل کرنا چاہیے، اور اس میں متعدد عناصر پر غور کرنا چاہیے۔

لافر نے یہ بھی کہا کہ “یہ اہم ہے کہ ایک غالب تمباکو محصولاتی ڈھانچے اور دنیا بھر کے ہر ملک کے لیے ایک سطح مرتب کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر دباؤ ڈالنے کے بارے میں دو مرتبہ سوچیں۔ ایک سائز سب کو پورا نہیں آتا۔ تمباکو کی قانون سازی اور محصولات پیچیدہ معاملات ہیں جنہیں محصولاتی ڈھانچوں اور سطحوں پر فیصلہ کرنے سے پہلے متعدد سیاسی، اقتصادی اور آبادیاتی عوامل  کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ “

لافر خم محصولاتی شرح اور محصولاتی آمدنی کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے۔ بیشتر مواقع پر جب تمباکو کی شرح بڑھ جاتی ہے تو حکومتوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ  برطانیہ اور آئرلینڈ سمیت ایسے ممالک کی بڑھتی ہوئی مثالیں سامنے ہیں جہاں نرخ خم کے نام نہاد “امتناعی حد” میں داخل ہوچکے ہیں۔

لافر نے کہا کہ ” محصولاتی سطحوں کو مرتب کرتے ہوئے ڈرامائی اضافہ ہدف کے حصول میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ ایک مرتبہ محصولاتی سطحیں لافر خم کی امتناعی حد میں داخل ہوجائیں تو محصولاتی آمدنی گرجائے گی۔ اگر صارفین کم محصولات کی حامل یا بلیک مارکیٹ کی مصنوعات کی جانب رجوع کریں تو محصولات میں اضافہ بھی تمباکو نوشی میں کمی کی جانب نہیں جاسکتا۔”

لافر کی ہینڈبک حکومتوں کو اپنے محصولاتی نظاموں کو چار بنیادوں پر تعمیر کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ ان میں شامل ہیں:

1۔ مصنوعاتی زمرہ جات کو صاف کریں – تاکہ آمدنی ‘سقم مصنوعات” میں ضائع نہ ہوجائے، تمباکو کی مصنوعات کی درست زمرہ بندی اور ساتھ ساتھ ان زمرہ جات  میں ترمیم اور انہیں تازہ تر کرنا۔

2۔ سخت محصولاتی ڈھانچے – ایکسائز ٹیکس ڈھانچے کو مستحکم اور قابل پیش بینی مجموعے  کو سہارا دینا  چاہیے اور  ممکنہ حد تک یقینی بنائے کہ ایکسائز ٹیکس میں اضافے کا نتیجہ حکومت کی محصولات سے آمدنی میں اضافے کا باعث بنے۔

3۔ درست محصولاتی سطحیں – صارفین کو محصولات میں اضافے کے بعد بلیک مارکیٹ میں کم قیمت مصنوعات کی جانب جانے سے روکنے کے لیے یقینی بنایا جائے کہ ہر زمرے میں درست محصولاتی سطحیں لاگو کی گئی ہیں۔

4۔ جمع کرنے کا موثر نظام – محصولات دینے اور جمع کرنے والوں پر انتظامی بوجھ کو کم سے کم کرنے اور تمام بنانے اور درآمد کرنے والوں کی جانب سے تمباکو محصولات کی موثر ادائیگی کو یقینی بنانا۔