کینٹن میلہ – “افریقہ-چین تجارت کے لیے ایک ابھرتا ہوا پلیٹ فارم”

گوانگ چو، چین، 28 دسمبر 2012ء/پی آرنیوزوائر –

جاری عالمی مالیاتی بحران کے باوجود چین اور افریقہ کے درمیان تجارت نے مستقل پیشرفت ظاہر کی ہے۔ چینی کسٹمز کے اعدادوشمار کے مطابق چین-افریقی تجارت گزشتہ سال میں 31 فیصد اضافے کے ساتھ 166.3 بلین ڈالرز تک جا پہنچی۔ اپریل 2012ء کے مطابق افریقہ میں چین کی براہ راست سرمایہ کاری کا حجم 15.3 بلین ڈالرز ہے – جو ایک دہائی قبل کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ ہے – اور چین گزشتہ تین سالوں سے افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

کئی افریقی کاروباری شخصیات نے کینٹن میلے میں شرکت کر کے زبردست کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ ماہ اختتام پذیر ہونے والے 112 ویں کینٹن میلے میں شرکت کرنے والے ایک لاکھ 88 ہزار 145 افراد میں سے 13 ہزار 362 (7 فیصد سے زائد) کا تعلق افریقہ سے تھا۔ اس نے براعظم کی کمرشل ترقی پر مثبت اثر ڈالا اور افریقہ کے عوام کی بڑی تعداد کے معیار زندگی کو بہتر بنایا۔ چین اور افریقہ کے مابین گہرے ہوتے تجارتی تعلقات کی شہادت صرف بڑھتےہوئےتجارتی حجم سے ہی نہیں ملتی، بلکہ ان گنت کاروباری رفاقتوں کی مضبوطی اور چینی مصنوعات کے معیار اور بہترین قیمت پر افریقہ کے بڑھتے ہوئے اعتماد سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

کینٹن میلے کے ذریعے دستیاب اشیاء کی بہترین قیمتیں کئی افریقی درآمد کنندگان کے لیے سب سے زیادہ پرکشش چیز ہیں۔ کھڑکیوں کی چوکھٹیں اور برساتی ملبوسات خریدنے کے لیے گوانگ چو آنے والی نائیجیریا کی ایک خاتون کاروباری شخصیت نے کہا کہ 112 واں کینٹن میلہ مسلسل چوتھا موقع ہے جب وہ اس میں شریک ہوئی ہیں۔ نمائش کنندگان کے پاس قیمتوں کا بھرپور جائزہ لینےکے بعدانہوں نے زور دیا کہ “چینی مصنوعات بہترین قیمت اور اچھے معیارکی ہیں۔”

برکینافاسو سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ تاجر نے انکشاف کیا کہ وہ 2004ء سے ہر سال دو مرتبہ کینٹن میلے میں شرکت کرتے ہیں۔ میلے کے ایک تجربہ کار فرد کی حیثیت سے وہ مصنوعات کے جائزے، قیمتیں پوچھنے، ہدایات لینے اور کیٹلاگ اور وزیٹنگ کارڈ کی درخواست کرنے کے عادی ہیں۔

پال چیسورا نے ایک ویب سائٹ پر اشتہار دیکھنے کے بعد کینٹن میلے میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ 20 سالہ زمبابوین کپ، گلدان جیسی تحفے میں دی جانے والی چیزوں اور دفتری سازوسامان مثلاً قلم کاغذ وغیرہ خریدنے کے لیے بہترین قیمتوں کے خواہاں تھے، جن کو وہ بحیثیت برانڈ اپنے ملک میں فروخت کریں گے۔

سابق نائب وزیر تجارت وی جیان گو نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اس سال افریقہ کے ساتھ چین کی تجارت کو 220 بلین ڈالرز کی توقع رکھتے ہیں، اور یہ اگلے پانچ سالوں میں چین-امریکہ اور چین-یورپی تجارت کو بڑھائے گی۔ کینٹن میلہ اس رحجان میں بدستور کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اگلا 113 واں کینٹن میلہ اپریل اور مئی 2013ء میں گوانگ چو، چین میں منعقد ہوگا۔
مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/

ذریعہ: کینٹن میلہ